آسٹریلیا میں سوشل میڈیا صارفین کو ذاتی نوعیت کے الگورتھم سے نکلنے یا اس میں شامل ہونے کا آسان اختیار فراہم کرنے کے منصوبے پر بحث جاری ہے۔ اس سلسلے میں، آسٹریلوی حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں کو مجبور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ وہ صارفین کو یہ سہولت فراہم کریں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے سڈنی کے شہریوں سے اس اقدام کے بارے میں ان کی رائے جاننے کے لیے بات چیت کی۔
یہ اقدام ان خدشات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے جہاں ذاتی نوعیت کے الگورتھم صارفین کو ایک مخصوص قسم کے مواد تک محدود کر دیتے ہیں، جس سے ‘ایکو چیمبرز’ بنتے ہیں اور معلومات کی وسعت متاثر ہوتی ہے۔ صارفین کو یہ اختیار دینے کا مقصد انہیں اپنے آن لائن تجربے پر زیادہ کنٹرول دینا ہے، تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مواد دیکھ سکیں اور غیر ضروری یا ناپسندیدہ مواد سے بچ سکیں۔
سڈنی میں بی بی سی سے بات کرنے والے شہریوں نے اس حکومتی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “انتخاب کا اختیار ہونا بہت اچھی بات ہے” کیونکہ اس سے صارفین کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا کہ وہ کس قسم کا مواد دیکھنا چاہتے ہیں اور کس سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہ اقدام ڈیجیٹل دنیا میں صارفین کے حقوق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔



