کیف: یوکرین کے چیف پراسیکیوٹر روسلان کراوچینکو نے کال سینٹر بدعنوانی کے ایک بڑے سکینڈل کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور حکومت پر شفافیت برقرار رکھنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اپنے استعفیٰ نامے میں، روسلان کراوچینکو نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے دفتر کو ‘سیاسی محاذ آرائی میں ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جائے’۔ کراوچینکو کا کہنا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی غیر جانبداری اور وقار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی قسم کے سیاسی تنازعے سے بچنا چاہتے ہیں۔
اس ہائی پروفائل استعفے سے یوکرین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کو مزید تقویت ملی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، یوکرین کی حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، خاص طور پر جنگ کے دوران بین الاقوامی امداد اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ کراوچینکو کے استعفے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہیں اور حکومت بدعنوانی کے خلاف اپنی جنگ میں سنجیدہ ہے۔



