بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشک میں سیکیورٹی فورسز نے انتہائی کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ دہشت گرد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے، اور انہیں مبینہ طور پر ایک غیر ملکی طاقت، بالخصوص بھارت، کی سرپرستی حاصل تھی۔ سیکیورٹی حکام نے ان آپریشنز کو صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ آپریشنز خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے تھے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی، ان کے ٹھکانوں اور آئندہ حملوں کے منصوبوں کی تفصیلات شامل تھیں۔ خاران اور واشک کے دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں کیے گئے ان کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، مواصلاتی آلات اور دیگر تخریبی مواد برآمد کیا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔
بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے بلوچستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش کرتا رہا ہے، اور ان آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا “بھارتی سرپرست یافتہ” ہونا اس دعوے کی مزید تصدیق کرتا ہے۔ ان کامیاب کارروائیوں سے صوبے میں امن کی بحالی کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی اور ملک دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی۔ سیکیورٹی فورسز نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔



