لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر کی فضا میں موجود بلیک کاربن آلودگی میں فوسل فیول کا کردار دوگنا سے بھی زائد ہے۔ یہ اہم انکشاف ماحولیات کے تحفظ و موسمیاتی تبدیلی کے محکمے اور پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیق کمیشن (سپارکو) کے اشتراک سے کی گئی ایک جامع اسٹڈی میں سامنے آیا ہے۔ بلیک کاربن، جو کہ نامکمل احتراق سے پیدا ہونے والا ایک باریک ذرہ ہے، انسانی صحت اور ماحولیات دونوں کے لیے انتہائی نقصان دہ سمجھا جاتا ہے اور یہ موسمیاتی تبدیلیوں کو بھی تیز کرتا ہے۔
اس اسٹڈی کے مطابق، لاہور کی فضا میں موجود بلیک کاربن کا ایک بڑا حصہ گاڑیوں، صنعتی یونٹس اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس میں استعمال ہونے والے فوسل فیولز (جیسے پٹرول، ڈیزل، کوئلہ) کے جلنے سے خارج ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک کاربن نہ صرف سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور کینسر کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ سورج کی روشنی کو جذب کرکے ماحول کا درجہ حرارت بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ نتائج شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ اور فضائی آلودگی کے بحران کی ایک اہم وجہ کی نشاندہی کرتے ہیں، جو سردیوں کے موسم میں خاص طور پر سنگین صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔
اس رپورٹ نے حکومتی حلقوں اور پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے زور دیا ہے کہ بلیک کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا، گاڑیوں کے لیے سخت اخراج کے معیارات نافذ کرنا، صنعتی یونٹس میں جدید فلٹریشن ٹیکنالوجی کا استعمال، اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا شامل ہے۔ یہ اسٹڈی لاہور جیسے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اس کے نتائج کی روشنی میں موثر حکمت عملی وضع کی جائے گی تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔





