یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران تازہ ترین پیش رفت میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے موخا ایئرپورٹ پر دو فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب حوثی باغی بحیرہ احمر کے انتہائی اہم سمندری راستے باب المندب کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
باب المندب، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے جوڑتا ہے، دنیا کے مصروف ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، حوثیوں کا اس پر ممکنہ کنٹرول عالمی بحری آمدورفت اور تجارت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آبی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کنٹرول سے نہ صرف بحیرہ احمر بلکہ سوئز کینال کے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی شپنگ بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
یمن میں سعودی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان کئی سالوں سے جاری تنازع نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے قریب پیش قدمی کو ایک اہم اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو انہیں بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس سے نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔





