جماعت اسلامی کے خواتین ونگ کے احتجاج نے شہر میں ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ احتجاج کے باعث اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ احتجاج حکومت پر اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ بڑھانے کی ایک کڑی ہے۔
مظاہرین نے شہر کے مختلف اہم چوراہوں اور سڑکوں پر کنٹینرز کھڑے کر کے راستے مسدود کر دیے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور روزمرہ کے معمولات درہم برہم ہو گئے۔ کاروباری مراکز بھی احتجاج کی وجہ سے بند رہے یا ان کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔ ٹریفک جام کے باعث ایمرجنسی سروسز کی آمد و رفت میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔
اسی دوران، جماعت اسلامی کے کارکنان نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 20 ستمبر کو دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور یہ لانگ مارچ حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ یہ اقدام ملک بھر میں سیاسی گرما گرمی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔





