بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ 2015 کا ایران جوہری معاہدہ اب قابل عمل ماڈل نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی نیا معاہدہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر بہت مختلف نوعیت کا ہوگا۔
گروسی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ، جسے مشترکہ جامع منصوبہ عمل (JCPOA) کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا جس کے بدلے میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں نرم کی جانی تھیں۔ تاہم، 2018 میں امریکہ کے اس معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد، ایران نے بھی اپنی جوہری سرگرمیوں کو دوبارہ تیز کر دیا تھا، جس سے معاہدے کی بنیاد کمزور پڑ گئی۔
ڈائریکٹر جنرل گروسی کے مطابق، آئندہ کسی بھی معاہدے کو ایران کی موجودہ جوہری صلاحیتوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانے ماڈل پر انحصار کرنا اب ممکن نہیں، اور ایک نئے، زیادہ جامع اور حقیقت پسندانہ فریم ورک کی ضرورت ہے جو تمام فریقین کے تحفظات کو دور کر سکے۔ یہ بیان عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے ایک نئی حکمت عملی ناگزیر ہے۔




