سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کو لبنان میں جاری حملوں کا سلسلہ روکنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کا آج 95 واں دن ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، ان کی کوششوں کا مقصد لبنان میں ایک وسیع تر جنگ کو روکنا ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران نے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ خطے میں امن کی بحالی کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں شدت آ چکی تھی۔ ان جھڑپوں نے لبنان کو ایک بڑے تنازعے کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ ان کی مداخلت نے فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف حملے بند کرنے پر راضی کیا ہے، جس سے لبنان میں مزید تباہی کو روکا جا سکے گا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ اس جنگ بندی کا مستقبل اور اس کے طویل مدتی اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔




