مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملے کی دھمکی سے بظاہر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے علاقائی امن و استحکام کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کرنے سے گریز کرے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی مہم میں کسی بھی قسم کی شدت ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ دباؤ خطے میں وسیع تر تنازعے کو روکنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیروت پر حملے کی صورت میں نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے تھے بلکہ اس سے ایران کے ساتھ جاری حساس امن مذاکرات کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا تھا۔ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو تحفظ فراہم کرنے اور خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم سے بچنے کی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔




