فرانس میں ملک گیر مظاہروں کے پرتشدد فسادات اور توڑ پھوڑ میں بدل جانے کے بعد تقریباً 1,800 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے ایک نوجوان کے پولیس فائرنگ سے ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے اور تیزی سے ملک کے مختلف شہروں میں پھیل گئے۔
دارالحکومت پیرس کی سڑکوں پر جلی ہوئی گاڑیاں، ٹوٹے ہوئے شیشے اور لوٹ مار کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مظاہرین نے دکانوں کو لوٹا، املاک کو نقصان پہنچایا اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔ شہر کے کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہ رہی اور پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔
یہ پرتشدد واقعات صرف پیرس تک محدود نہیں رہے بلکہ مارسیل، لیون اور دیگر بڑے شہروں میں بھی فسادات اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حکام نے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ہزاروں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ان واقعات نے فرانسیسی معاشرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی غم و غصے کو اجاگر کیا ہے۔




