مذاکرات کے دوران دو بار حملے ہوئے، جنگ کیلیے ایران ذمہ دار نہیں؛ اسماعیل بقائی

تہران: ایران کے ایک سینئر عہدیدار اسماعیل بقائی نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر دو بار حملے کیے گئے ہیں، اور اگر خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوگی۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن اسے مسلسل اشتعال انگیزی کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مختلف محاذوں پر غیر منصفانہ اور جارحانہ اقدامات کا سامنا رہا ہے۔ ان اقدامات میں ایران کے معصوم اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، کھیل کے میدانوں میں خواتین کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، اور ملک کے اہم رہنماؤں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کیا گیا ہے جس کا مقصد ایرانی عوام کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات مذاکرات کے ماحول کو خراب کرتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ایران کسی بھی صورتحال میں اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کا دفاع کرے گا۔

  • Related Posts

    میکرون کا سعودی عرب کا غیر متوقع دورہ، فرانس کو اضافی ڈیزل کی فراہمی یقینی

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سعودی عرب کا ایک غیر متوقع دورہ کیا جہاں انہوں نے ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی…

    پرتگال میں بڑھتے مظاہرے: وجوہات اور مطالبات

    پرتگال میں حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔