تہران: ایران کے ایک سینئر عہدیدار اسماعیل بقائی نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر دو بار حملے کیے گئے ہیں، اور اگر خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوگی۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن اسے مسلسل اشتعال انگیزی کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مختلف محاذوں پر غیر منصفانہ اور جارحانہ اقدامات کا سامنا رہا ہے۔ ان اقدامات میں ایران کے معصوم اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، کھیل کے میدانوں میں خواتین کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، اور ملک کے اہم رہنماؤں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کیا گیا ہے جس کا مقصد ایرانی عوام کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات مذاکرات کے ماحول کو خراب کرتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ایران کسی بھی صورتحال میں اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کا دفاع کرے گا۔





