مذاکرات کے دوران دو بار حملے ہوئے، جنگ کیلیے ایران ذمہ دار نہیں؛ اسماعیل بقائی

تہران: ایران کے ایک سینئر عہدیدار اسماعیل بقائی نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر دو بار حملے کیے گئے ہیں، اور اگر خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوگی۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن اسے مسلسل اشتعال انگیزی کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مختلف محاذوں پر غیر منصفانہ اور جارحانہ اقدامات کا سامنا رہا ہے۔ ان اقدامات میں ایران کے معصوم اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، کھیل کے میدانوں میں خواتین کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، اور ملک کے اہم رہنماؤں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کیا گیا ہے جس کا مقصد ایرانی عوام کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات مذاکرات کے ماحول کو خراب کرتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ایران کسی بھی صورتحال میں اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کا دفاع کرے گا۔

  • Related Posts

    امریکہ کا قیمتوں میں استحکام لانے کی کوشش میں ہیٹنگ آئل کے ذخیرے کا ایک تہائی حصہ قرض پر جاری کرنے کا ہدف

    امریکی حکومت نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کا اعلان کیا ہے۔ اس…

    برطانوی مصنفین کا ‘فلسطین ایکشن’ پر ‘ظالمانہ’ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    برطانیہ کے معروف مصنفین اور ادیبوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘فلسطین ایکشن’ نامی گروپ پر عائد ‘ظالمانہ’ پابندی کو فوری طور پر ختم کرے۔ یہ مطالبہ…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔