برازیل میں اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے (رن آف) سے قبل ملک کے دو اہم امیدواروں، سابق صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا اور موجودہ صدر جائر بولسونارو کے درمیان پالیسی تجاویز پر گرما گرم بحث ہوئی ہے۔ تازہ ترین سروے اور پولز اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ انتہائی کانٹے دار ہے اور کوئی بھی واضح برتری حاصل نہیں کر سکا ہے۔
لولا ڈا سلوا، جو پہلے بھی برازیل کے صدر رہ چکے ہیں، بائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھتے ہیں اور غریبوں کے لیے سماجی پروگراموں کے حوالے سے مقبولیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، جائر بولسونارو ایک دائیں بازو کے قدامت پسند رہنما ہیں جن کی پالیسیاں اکثر متنازعہ رہی ہیں۔ مباحثے کے دوران دونوں رہنماؤں نے معیشت کی بحالی، سماجی بہبود کے پروگراموں، ماحولیاتی تحفظ اور ملک میں جمہوریت کے مستقبل جیسے اہم مسائل پر اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کیے۔
انتخابی سروے کے مطابق، دونوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ہر ایک ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مقابلہ نہ صرف برازیل کے لیے بلکہ لاطینی امریکہ کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ملک کی آئندہ سیاسی اور اقتصادی سمت کا تعین ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو اپنے فیصلے سے قبل دونوں امیدواروں کی پالیسیوں اور ماضی کی کارکردگی کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔





