حالیہ انٹرویوز اور دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک روسی توانائی کے بڑے ادارے نے امریکہ کی ایک فرم کو الاسکا میں ایک منصوبے کے لیے خفیہ طور پر مالی معاونت فراہم کی۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب امریکہ اور کریملن کے درمیان گیس کے معاہدوں پر بات چیت جاری تھی۔ اس خبر نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی پیچیدگیوں کو مزید اجاگر کیا ہے۔
اس خفیہ مالی معاونت کا معاملہ یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بھی زیرِ بحث آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کی تفصیلات پر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کی گئی تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ایک ممکنہ حل تلاش کیا جا سکے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر سفارت کاری اور توانائی کے شعبے میں خفیہ روابط کی نوعیت پر سوالات اٹھاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ فنڈنگ نہ صرف شفافیت کے سوالات اٹھاتی ہے بلکہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور سیاسی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس انکشاف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں کس طرح پس پردہ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ معاشی اور سیاسی روابط برقرار رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین تنازعہ عروج پر ہے۔





