سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے دورِ اقتدار میں ماحول کو آلودہ کرنے والی صنعتی تنصیبات کو عارضی طور پر صاف ہوا کے قوانین سے استثنیٰ دے دیا تھا۔ ان قوانین کا مقصد ایسی صنعتی اکائیوں کو کنٹرول کرنا تھا جو کینسر کا باعث بننے والی زہریلی گیسیں فضا میں خارج کرتی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے حامیوں نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ عارضی چھوٹ صرف ایک ابتدائی قدم تھا، کیونکہ بعد ازاں ٹرمپ کے مقرر کردہ حکام نے ان ماحولیاتی ضوابط کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کیا۔ ان کا مقصد صنعتی اداروں پر عائد ماحولیاتی پابندیوں کو کم کرنا تھا، جس کے نتیجے میں انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے آلودگی پھیلانے کی کھلی چھوٹ مل جاتی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا تھا۔
ماحولیاتی ماہرین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے اس پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس سے فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا اور کینسر سمیت دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ فیصلہ صنعتی منافع کو عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ پر ترجیح دینے کے مترادف ہے، اور اس نے بدترین آلودگی پھیلانے والوں کو ماحولیاتی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد کر دیا۔





