عدالتی احکامات اور حکومتی پابندی کے باوجود زیرِ تعمیر مہران ہائی وے پر ہیوی ٹریفک کی بلا روک ٹوک آمد و رفت جاری ہے، جس سے نہ صرف تعمیراتی کام متاثر ہو رہا ہے بلکہ مسافروں اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال قانون کی بالادستی اور عوامی تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
ہائی وے کے مختلف حصوں پر جگہ جگہ تعمیراتی سامان بکھرا پڑا ہے، جس میں ریت، بجری اور سیمنٹ کے ڈھیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سڑک کے کئی حصے کچے اور ناہموار ہیں، جہاں سے گزرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ہیوی ٹریفک کی موجودگی کے باعث دھول مٹی کے بادل چھائے رہتے ہیں، جو فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں اور قریبی آبادیوں کے مکینوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
مقامی شہریوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور زیرِ تعمیر ہائی وے پر ہیوی ٹریفک کے داخلے کو فوری طور پر روکا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے اور تعمیراتی منصوبے کی تکمیل میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی تحفظ کو یقینی بنائیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔


