مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور بڑے بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں، جہاں اسرائیل نے ایران کی یورینیم افزودگی کو اپنی “سرخ لکیر” قرار دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل ایران کی یورینیم افزودگی کی زیرِ زمین تنصیب کو ایک ممکنہ خطرہ سمجھ رہا ہے اور اس پر شدید تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے اور عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، عالمی رہنماؤں نے مشترکہ فوجی کارروائیوں کے لیے سات دن کی ایک محدود مدت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس ضمن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل “تیار رہو” کا اشارہ تھا، تاہم انہوں نے کسی مخصوص وقت کا تعین نہیں کیا۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی سے کشیدگی عروج پر ہے اور کسی بھی غلط فہمی یا غلط اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایک ایسے نازک سیاسی ماحول میں ہو رہی ہے جہاں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں صرف دس دن باقی ہیں، جبکہ اسرائیل میں بھی انتخابات کو صرف تین دن رہ گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ انتخابی مہمات اور اندرونی سیاسی دباؤ بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی سے غیر مستحکم ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
