جمہوری نظام میں انتخابات کا مقصد عوام کی رائے کی عکاسی کرنا اور قیادت میں تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل، دونوں ہی دنیا کے اہم جمہوری ممالک ہیں جہاں باقاعدگی سے انتخابات منعقد ہوتے ہیں اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ ان انتخابی عمل کے ذریعے نئے چہرے سامنے آتے ہیں اور عوام کو یہ امید ہوتی ہے کہ نئی قیادت کے ساتھ پالیسیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔
تاہم، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں جو قیادت کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہتی ہے۔ اسرائیلی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، وزیراعظم بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح امریکہ میں بھی صدر آتے اور جاتے رہتے ہیں، لیکن ایک پالیسی ایسی ہے جس میں حیرت انگیز تسلسل پایا جاتا ہے۔
یہ پالیسی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع ہے۔ چاہے اسرائیل میں دائیں بازو کی حکومت ہو یا بائیں بازو کی، اور چاہے امریکہ میں ریپبلکن صدر ہو یا ڈیموکریٹ، مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر نئی بستیوں کی تعمیر اور موجودہ بستیوں کی توسیع کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف فلسطینیوں کے لیے مایوسی کا باعث ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو بھی مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا واقعی نئے قائدین کے ساتھ پالیسیاں بھی بدلتی ہیں، یا کچھ معاملات میں ‘نئے چہرے، وہی پالیسیاں’ کا اصول ہی لاگو ہوتا ہے؟



