سربیا میں پولنگ کا عمل اختتام پذیر ہو رہا ہے، جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق انتخابات میں ریکارڈ توڑ ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب ملک میں طویل عرصے سے حکمران پاپولسٹ رہنما الیگزینڈر ووچچ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے طلبہ کی ایک مضبوط تحریک سرگرم ہے۔
طلبہ کی یہ تحریک، جو ووچچ کی حکومت کے خلاف عوامی ناراضی کا اظہار ہے، نے انتخابی عمل میں نوجوانوں کی وسیع شرکت پر زور دیا ہے۔ ان کا مقصد ووچچ کے طویل دورِ اقتدار کو چیلنج کرنا ہے، جن پر ناقدین اکثر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور میڈیا پر کنٹرول رکھنے کا الزام لگاتے ہیں۔
ان انتخابات کو سربیا کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ریکارڈ ٹرن آؤٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ووٹرز، خاص طور پر نوجوان نسل، ملک کی سمت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ نتائج کا انتظار ہے جو سربیا کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی تبدیلی لا سکتے ہیں۔


