الجزائر نے نائجر میں فوجی تعیناتی کا اعلان کیا ہے، جو کہ ملک کی پچاس سالہ تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی سرزمین پر فوج بھیجنے کا اقدام ہے۔ یہ فیصلہ الجزائر کے عسکری نظریے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ نائجر میں حالیہ فوجی بغاوت کے بعد سے خطے کی صورتحال غیر مستحکم ہے، اور الجزائر کا یہ اقدام عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اس تاریخی اقدام کے پیچھے الجزائر کی نئی دفاعی پالیسی کارفرما ہے، جس کے تحت ملک نے اپنی سرحدوں سے باہر فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے کے لیے اپنے آئین میں ترمیم کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ الجزائر اس تعیناتی کے ذریعے نائجر میں استحکام لانے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے، اور اپنے جنوبی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ الجزائر طویل عرصے سے ساحل کے علاقے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے پریشان ہے اور اس اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ECOWAS) نائجر میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے فوجی مداخلت پر غور کر رہی ہے۔ الجزائر نے پہلے ECOWAS کی فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی، لیکن اب اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ اس کی اپنی علاقائی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس اقدام کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور یہ الجزائر کو علاقائی طاقت کے طور پر مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ اقدام نائجر کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا یا مزید پیچیدگیوں کا باعث بنے گا۔






