سربیا میں طویل عرصے سے حکمران رہنے والے رہنما الیگزینڈر ووچچ کو حالیہ انتخابات میں طلبہ کی قیادت میں ایک احتجاجی تحریک کے ہاتھوں غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں ہے۔ ووچچ، جو گزشتہ 12 سال سے سربیا کی سیاست پر چھائے ہوئے تھے، نے اپنی شکست کا اعتراف کر لیا ہے۔
الیگزینڈر ووچچ کی دائیں بازو کی پاپولسٹ پارٹی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اقتدار میں تھی اور ان کی حکومت کو اکثر ناقدین کی جانب سے جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کا الزام دیا جاتا تھا۔ یہ انتخابات ملک کے مستقبل پر ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھے جا رہے تھے، جہاں ووچچ کی پالیسیوں اور حکمرانی کے انداز پر عوامی عدم اطمینان بڑھ رہا تھا۔
طلبہ کی قیادت میں اس احتجاجی تحریک نے نوجوانوں اور دیگر طبقوں میں ایک نئی امید پیدا کی ہے، جو ملک میں تبدیلی اور بہتر مستقبل کی خواہاں تھی۔ ووچچ نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی پارٹی کو ووٹوں میں واضح شکست ہوئی ہے، جو سربیا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کامیابی کو جمہوریت اور عوامی طاقت کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






