وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے ملک میں تیل کی قیمتوں کے مستقبل کے رجحان کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کس رفتار سے اضافہ ہوگا، اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی بلند افراط زر اور معاشی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے درآمدی معیشتوں کے لیے شدید چیلنجز کا باعث بنتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ نہ صرف ملک کے درآمدی بل میں اضافے کا سبب بنے گا بلکہ مقامی سطح پر مہنگائی کو بھی مزید بڑھاوا دے گا۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑے گا، جنہیں پہلے ہی بجلی، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔
حکومت پاکستان عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، تاہم عالمی عوامل پر مکمل کنٹرول ممکن نہیں ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملک کی معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتا ہے اور حکومتی بجٹ پر بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ احسن اقبال کا یہ بیان دراصل ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے اور آئندہ چند ماہ میں ممکنہ طور پر مزید مشکل حالات کی نشاندہی کرتا ہے۔



