یمن کے تیسرے سب سے بڑے شہر تعز پر جاری محاصرے کو تین ہفتے مکمل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں شہر میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے عام شہریوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں بنیادی ضروریات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
محاصرے کے باعث شہر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں، جس سے عام خاندانوں کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ خوراک، پانی اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے، اور لوگ اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بازاروں میں سامان کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے اور جو کچھ دستیاب ہے وہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔
تعز کا محاصرہ یمن میں جاری وسیع تر تنازعے کا ایک دلخراش پہلو ہے، جہاں لاکھوں افراد جنگ اور اس کے نتائج سے متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تعز کے محصور شہریوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرے اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔





