سپین میں ایک مہلک ٹرین حادثے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جس کے بعد دارالحکومت میڈرڈ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ان مظاہروں کے دوران صورتحال کشیدہ ہو گئی اور حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انسداد فسادات پولیس کو تعینات کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق، میڈرڈ کی سڑکوں پر دائیں بازو کے انتہا پسند مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے ٹرین حادثے کے بعد حکومت کی کارکردگی اور حفاظتی اقدامات پر شدید تنقید کی، اور ان کا غصہ حکومتی اداروں کی جانب سے مبینہ لاپرواہی پر مرکوز تھا۔
حادثے میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، جس نے سپین کی تاریخ کے بدترین ریلوے حادثات میں سے ایک کے طور پر اپنی جگہ بنا لی ہے۔ میڈرڈ میں ہونے والے یہ مظاہرے حادثے کے بعد عوامی بے چینی اور حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔




