اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کے حالیہ دورے میں ایران کے ساتھ کسی دفاعی معاہدے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے ان تمام قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کیا جن میں ایسے کسی معاہدے کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ ان کا دورہ تہران دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کے لیے تھا، نہ کہ کسی دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری برقرار رکھتا ہے اور کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات قومی مفادات کی بنیاد پر استوار کرتا ہے۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے پاکستان کے امن کوششوں میں کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خطے میں جنگ کو روکنے اور یمن تنازع کے خطرات کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خواجہ آصف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ان امن کوششوں کو تسلیم کرے اور سراہے جو خطے میں استحکام لانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔




