اسلام آباد کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر و ساتھی وکیل ہادی علی چھٹہ کو سیکیورٹی خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں ہر ایک کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ 5 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں ایک عدالتی سماعت کے دوران سنایا گیا۔
عدالت نے جوڑے کو دفعہ 353، دفعہ 186، اور انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت مجرم قرار دیا۔ ان دفعات کا تعلق سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق، وکیل جوڑے کو مجموعی طور پر 200,000 روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
ایمان مزاری، جو انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور وکیل کے طور پر جانی جاتی ہیں، اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے خلاف یہ مقدمہ سیکیورٹی اداروں سے متعلق ایک مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں دائر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی برادری میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔




