دنیا بھر کے 22 ممالک میں 110 سے زائد بندرگاہوں پر کام کرنے والی 25 سے زیادہ گودی مزدوروں کی ٹریڈ یونینز نے 30 اکتوبر کو غزہ کی صورتحال کے خلاف عالمی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف عالمی یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ ہڑتال مزدور تنظیموں کی جانب سے عالمی برادری کو غزہ کی سنگین صورتحال کی جانب توجہ دلانے کی ایک کوشش ہے۔
اس ہڑتال کا بنیادی مقصد عالمی برادری اور متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ غزہ میں فوری جنگ بندی کروائی جا سکے اور انسانی امداد کی بلاروک ٹوک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ گودی مزدوروں کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ عالمی سپلائی چینز میں اپنی اہم حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان مزدور تنظیموں کا موقف ہے کہ وہ ایسے کسی بھی سامان کی نقل و حمل میں حصہ نہیں لیں گے جو غزہ میں جاری تنازعے کو مزید ہوا دے سکتا ہے یا اس سے منسلک ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، یہ عالمی ہڑتال نہ صرف ایک علامتی احتجاج ہے بلکہ اس کے عالمی تجارت اور معیشت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ 22 ممالک کی 110 سے زائد بندرگاہوں پر کام کا تعطل عالمی رسد کے سلسلے کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے حکومتوں پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ یہ ہڑتال عالمی سطح پر غزہ کے حق میں بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور یکجہتی کی ایک اور مثال ہے، جو عالمی رہنماؤں کو اس بحران کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔






