روس کے زیرِ قبضہ یوکرین کے تباہ حال شہر اولیشکی سے مکینوں کے انخلا کے لیے ایک راہداری کھول دی گئی ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں شہری شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ شہر طویل عرصے سے جنگی صورتحال کا شکار ہے اور حالیہ لڑائیوں نے اسے مزید تباہ کر دیا ہے۔
تاہم، انخلا کی اس سہولت کے باوجود، یہ سمجھا جاتا ہے کہ سینکڑوں افراد نے اس محاذی قصبے میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان رہائشیوں نے گیس، بجلی اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے باوجود اپنے گھر بار نہ چھوڑنے کا عزم کیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہے۔
اولیشکی میں رہنے والے افراد کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں اس طرح کی صورتحال انسانی بحران کو جنم دیتی ہے جہاں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان علاقوں میں امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن زمینی حقائق انتہائی مشکل ہیں۔





