ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک، گوگل، کو حال ہی میں ایک بڑے مالیاتی جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی حیران کن کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد اس کے حصص کی قیمت چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ کمپنی کی جانب سے یہ انکشاف ہے کہ اس کی اپنی مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سرچ سمریز (خلاصے) اس کی اشتہاری آمدنی کو متاثر کر رہی ہیں۔
اس انکشاف نے سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر صارفین کو براہ راست سرچ نتائج میں ہی مکمل معلومات مل جاتی ہیں تو وہ اشتہارات پر کلک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے، جس سے گوگل کی اشتہاری آمدنی، جو اس کے کاروبار کا ایک بڑا حصہ ہے، بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال گوگل کے لیے ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو رہی ہے، جہاں ایک طرف وہ جدید AI ٹیکنالوجی کو اپنا رہا ہے وہیں دوسری طرف اس کے روایتی آمدنی کے ماڈل کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
گوگل کا یہ تجربہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم سبق ہے جو مصنوعی ذہانت کو اپنے بنیادی کاروبار میں ضم کر رہی ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپناتے وقت موجودہ آمدنی کے ماڈلز کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گوگل اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے تاکہ اپنی AI سروسز کو بہتر بناتے ہوئے اشتہاری آمدنی کو بھی محفوظ رکھ سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکے۔






