ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ‘مینوسفیئر’ (manosphere) اور صنفی تعصب کو عوامی صحت کے مسائل کے طور پر تسلیم کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ آن لائن عورت دشمنی اور اس سے جنم لینے والے وسیع تر سماجی نقصانات پر قابو پانے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔
ماہرین نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کی سفارشات میں تعلیم کو فروغ دینا، ذہنی صحت کی معاونت فراہم کرنا، اور آن لائن پلیٹ فارمز کی جوابدہی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف آن لائن عورت دشمنی کی روک تھام کرنا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشرے میں پھیلنے والے دیگر منفی اثرات کو بھی کم کرنا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ‘مینوسفیئر’ ایسی آن لائن کمیونٹیز کا مجموعہ ہے جو مردوں کی برتری اور عورت دشمنی پر مبنی نظریات کو فروغ دیتی ہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ رجحانات نہ صرف افراد کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور صنفی مساوات کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ لہٰذا، ان کو محض ایک سماجی مسئلہ سمجھنے کے بجائے، عوامی صحت کے نقطہ نظر سے دیکھنا اور اس کے مطابق پالیسیاں وضع کرنا ناگزیر ہے۔

