فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ناقص عوامی خدمات کے خلاف جاری احتجاجی تحریک نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران دارالحکومت پیرس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ مسلسل تیسرا ہفتہ ہے جب فرانسیسی عوام سڑکوں پر نکل کر حکومت سے اپنی مشکلات کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، ملک بھر میں 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد نے ان مظاہروں میں حصہ لیا، جن میں سے ایک بڑی تعداد پیرس میں جمع تھی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو درپیش معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
پیرس میں مظاہرین نے مختلف شاہراہوں کو بلاک کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی اور پتھراؤ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور صحت و تعلیم جیسی بنیادی عوامی خدمات کی ابتر صورتحال نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور حکومت ان کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔






