یوکرین کے وہ شہری جو کئی سالوں سے روس کے زیرِ قبضہ فرنٹ لائن شہروں میں زندگی گزار رہے تھے، اب اپنے انخلا کے بعد اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “ہم جہنم سے واپس آئے ہیں۔” ان کے بیانات ان علاقوں میں انسانی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں جہاں جنگ کی تباہ کاریاں روزمرہ کا حصہ بن چکی ہیں۔
انخلا کیے گئے ایک جوڑے نے اپنی دل دہلا دینے والی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں اولیشکی میں خوراک کی تلاش میں بارودی سرنگوں سے گزرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی کی بنیادی ضروریات کی دستیابی ایک مسلسل چیلنج تھی اور اکثر انہیں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر خوراک حاصل کرنی پڑتی تھی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں عام شہریوں کو کس قدر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ کہانیاں صرف چند افراد کی نہیں بلکہ ان ہزاروں یوکرینی شہریوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو روسی قبضے کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے تجربات جنگ کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں جہاں عام شہری نہ صرف بمباری اور تشدد کا شکار ہوتے ہیں بلکہ بنیادی سہولیات سے محرومی اور مسلسل خوف کے سائے میں جیتے ہیں۔ انخلا کے بعد بھی ان کے زخم گہرے ہیں اور “جہنم سے واپسی” کا یہ بیان ان کی اذیت کی شدت کو بیان کرتا ہے۔





