کراچی (اسپین نیوز ویب سائٹ): پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی میں جرائم کی ایک تشویشناک لہر نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ گزشتہ دس ماہ کے دوران شہر میں 51 ہزار سے زائد جرائم کی وارداتیں رپورٹ کی گئی ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور شہریوں کے عدم تحفظ کے احساس کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان وارداتوں میں اسٹریٹ کرائمز، موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کرنے کے واقعات، موبائل فون چھیننے، اور گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں سرفہرست ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں شہری اپنی قیمتی اشیاء اور بعض اوقات اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ دن دہاڑے بھی وارداتیں عام ہو گئی ہیں، جس سے شہری گھروں سے باہر نکلنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔
شہری حلقوں کی جانب سے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جرائم کی اس لہر پر قابو پانے کے لیے نہ صرف پولیس کی گشت اور انٹیلی جنس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے بلکہ بے روزگاری اور غربت جیسے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی جو جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ کراچی کے امن و امان کی صورتحال کا براہ راست اثر ملک کی معیشت پر بھی پڑتا ہے، لہٰذا اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ناگزیر ہے۔




