الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے ضمنی انتخابات کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ نوٹسز ان شخصیات کی جانب سے انتخابی مہم میں حصہ لینے یا سرکاری عہدے کا استعمال کرنے کے الزامات کے بعد جاری کیے گئے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔
انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت، سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو ضمنی یا عام انتخابات کے دوران کسی بھی حلقے میں انتخابی مہم میں حصہ لینے یا سرکاری وسائل کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تاکہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔ الیکشن کمیشن نے دونوں شخصیات سے جواب طلب کیا ہے کہ وہ کیوں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ یہ نوٹسز الیکشن کمیشن کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ انتخابی عمل کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پنجاب میں ہونے والے یہ ضمنی انتخابات سیاسی طور پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان نوٹسز کا اجراء اس عزم کا حصہ ہے کہ کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، انتخابی قوانین سے بالاتر نہیں ہے۔ توقع ہے کہ دونوں شخصیات جلد ہی اپنے جوابات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں گی، جس کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔



