کینیا میں امریکی ایبولا قرنطینہ مرکز کے قیام کے خلاف ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک شخص کو گولی مار دی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مظاہرین نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا جس میں ملک میں ایبولا کے مریضوں کے لیے ایک قرنطینہ مرکز قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
مظاہرین کا بنیادی تشویش اس مرکز سے پیدا ہونے والے سرحد پار انفیکشن کے خطرات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مرکز نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پڑوسی ممالک کے لیے بھی صحت کا ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مظاہرین نے حکومت کی جانب سے اس علاج مرکز کے بارے میں معلومات کی عدم شفافیت پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس منصوبے کی تفصیلات کو عوام کے سامنے واضح کرے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔





