مشرق وسطیٰ میں حالیہ حملوں کے سلسلے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں ہلچل دیکھنے میں آئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں حصص کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا رجحان غالب رہا۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ماہ سے جاری جنگ بندی پہلے ہی تناؤ کا شکار تھی۔ ان واقعات نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو ایک نیا اور شدید جھٹکا دیا ہے، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تیل کی پیداوار اور ترسیل کے اہم راستوں پر ہونے والے حملوں نے سپلائی چین کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عدم استحکام عالمی سپلائی چین اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑی پیش رفت کے عالمی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





