سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر ‘سخت’ حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران نے امریکہ کے مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسے ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔
دوسری جانب، ایران کے نو منتخب صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی دھمکیوں کے خلاف مزاحمت کا عہد کیا ہے۔ پیزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اپنے ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
یہ دھمکیاں اور جوابی بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ کے سابقہ دورِ صدارت میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور جوہری معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کے بیانات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اور کسی بھی غلط فہمی کی صورت میں بڑے تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔






