ایک بڑے شہر کے ہسپتال میں ایچ آئی وی پازیٹو مریض کی سرجری کے بعد آپریشن تھیٹر (او ٹی) کے حفاظتی پروٹوکولز پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں محکمہ صحت نے فوری طور پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال اس وقت سامنے آئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایچ آئی وی پازیٹو مریض کے آپریشن کے دوران اسی آپریشن تھیٹر میں دیگر مریضوں کی سرجریاں بھی جاری رکھی گئیں۔
طبی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی جیسے حساس کیسز میں آپریشن تھیٹر کے اندر اور باہر انتہائی سخت جراثیم کشی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کے کسی بھی خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ ایک ہی او ٹی میں بیک وقت ایچ آئی وی پازیٹو اور دیگر مریضوں کی سرجریوں کا جاری رہنا طبی اخلاقیات اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات کی صریح خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف دیگر مریضوں بلکہ طبی عملے کی صحت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے، آپریشن تھیٹر کے عملے سے پوچھ گچھ کرے اور ہسپتال کے حفاظتی پروٹوکولز کی پاسداری کا تفصیلی معائنہ کرے۔ انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے غفلت برتی گئی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس واقعے نے ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت اور طبی معیارات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
