فرانس کے متعدد شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے ملک بھر میں بے امنی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ حکام کے مطابق، ان ہنگاموں کے دوران اب تک 1200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے تیزی سے لوٹ مار، آتش زنی اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، مظاہرین نے دکانوں اور کاروباری مراکز کو لوٹا، گاڑیوں کو آگ لگائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ پیرس، مارسیل اور لیون سمیت کئی بڑے شہروں میں صورتحال خاصی کشیدہ رہی جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جو ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے ان پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی فورسز تعینات کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کو قابو میں لانے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ تاہم، ملک میں جاری بے چینی اور مظاہروں کا سلسلہ فی الحال تھمتا نظر نہیں آ رہا، جس سے ملک میں مزید کشیدگی کا خدشہ ہے۔
