امریکہ بھر میں وسط مدتی انتخابات سے عین قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہزاروں افراد نے ‘نو کنگز’ (No Kings) کے نام سے وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے۔ یہ مظاہرے ملک کے مختلف شہروں میں منعقد ہوئے جہاں مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
‘نو کنگز’ کا نعرہ صدر ٹرمپ کے طرز حکمرانی اور ان کے فیصلوں کے خلاف عوامی ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے صدر کو قبول نہیں کریں گے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہو اور جمہوری اقدار کو پامال کرتا ہو۔ ان مظاہروں میں صحت عامہ، امیگریشن پالیسیوں، ماحولیاتی تحفظ اور نسلی مساوات جیسے اہم مسائل پر بھی آواز اٹھائی گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی بے چینی مختلف شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے۔
وسط مدتی انتخابات سے قبل ان مظاہروں کا انعقاد سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے آنے والے انتخابات میں ووٹروں کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک مضبوط پیغام ثابت ہو سکتے ہیں۔ مظاہرین نے پرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کیے اور ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کا عزم ظاہر کیا، جس کا مقصد امریکی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنا ہے۔





