جاپان: شرح سود 31 سال کی بلند ترین سطح پر، معاشی پالیسی میں اہم تبدیلی

جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان، نے اپنی شرح سود میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ شرح گزشتہ 31 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی معاشی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو 2024 سے جاری ہے اور جس کے تحت بینک تقریباً صفر شرح سود کی اپنی طویل مدتی پالیسی سے بتدریج کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے۔

اس اضافے کا مقصد جاپان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور ملک کی معیشت کو ایک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ کئی دہائیوں تک افراط زر اور معاشی جمود کا سامنا کرنے کے بعد، بینک آف جاپان اب اپنی انتہائی نرم مالیاتی پالیسی کو ترک کر کے عالمی معاشی رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے وسیع تر رجحان کا بھی حصہ ہے۔

شرح سود میں اس اضافے کے جاپانی معیشت پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ ایک طرف، صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا، جس سے کھپت اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، یہ اقدام ین کی قدر کو مضبوط کر سکتا ہے اور جاپان کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جاپان کے لیے ایک نئے معاشی دور کا آغاز ہے، جہاں افراط زر کو کنٹرول کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا مرکزی ترجیح ہوگی۔

  • Related Posts

    کے پی میں ہنگامی حالت کی توثیق کرنے والی پارلیمنٹ کیا اپنے اختیارات مزید محدود کرنے والے اقدام پر بھی مہر تصدیق ثبت کرے گی؟

    پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر خیبر پختونخوا (کے پی) میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان زیر بحث ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی…

    بھارت: ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، لاکھوں شہری حق رائے دہی ثابت کرنے میں مشکلات کا شکار

    لادلی خاتون اپنے پیلے بیگ سے ایک کے بعد ایک دستاویز نکال رہی تھیں، اس امید کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی ایک دستاویز ہی بھارت کی انتخابی فہرستوں…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔