قطر میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے افتتاحی راؤنڈ کے ایک میچ کے باہر، جو ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جا رہا تھا، ایرانی نژاد امریکیوں نے تہران کے مذہبی حکومتی نظام کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ بی بی سی کی نمائندہ شیما خلیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مظاہرین نے ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خواتین پر جاری جبر کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ایران میں جاری مظالم کا نوٹس لینا چاہیے اور اس وقت تک ایرانی ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جب تک ملک میں بنیادی آزادیوں کو بحال نہیں کیا جاتا۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ورلڈ کپ جیسے عالمی پلیٹ فارم پر اس طرح کا احتجاج ایرانی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش سمجھا جا رہا ہے، تاکہ ملک میں جاری جبر کا سلسلہ روکا جا سکے اور ایرانی عوام کو ان کے حقوق مل سکیں۔






