صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا جب ملک کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
بجٹ میں صوبائی ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو کہ حکومتی ترجیحات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ اپوزیشن اراکین نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور اسے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کا باعث قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ بجٹ عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالے گا۔
اسمبلی کا ماحول کافی کشیدہ رہا، جہاں اپوزیشن نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑنے اور واک آؤٹ کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن اور عوام دوست قرار دیتے ہوئے دفاع کیا، تاہم بجٹ پر بحث اور منظوری کا عمل آئندہ دنوں میں مزید گرما گرم رہنے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت صوبے کی سیاسی صورتحال میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہے۔



