پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی جماعت کے ناراض ارکان کی ناراضگی تاحال برقرار ہے اور وہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ تازہ ترین پیشرفت کے مطابق، ناراض ارکان نے حکومتی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے صوبائی حکومت کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ ناراض ارکان کافی عرصے سے حکومتی پالیسیوں اور بعض فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے بنیادی مطالبات میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم، حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی عدم تکمیل اور بعض وزراء کے رویے سے متعلق شکایات شامل ہیں۔ متعدد ملاقاتوں اور یقین دہانیوں کے باوجود، ان ارکان کا کہنا ہے کہ ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے، جس کے باعث انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ناراض ارکان کا یہ اقدام صوبائی حکومت کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے اہم قانون سازی اور بجٹ کی منظوری کے لیے ایوان میں مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے ناراض ارکان کو منانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم فی الحال کوئی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ناراضگی جلد ختم نہ ہوئی تو اس کے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


