پاکستان دنیا کے سب سے بڑے آم برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، لیکن حالیہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے باعث تجارتی جہاز رانی اور ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی آم کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ آم ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے والی اہم زرعی مصنوعات میں سے ایک ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بحری تجارتی راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر کا راستہ۔ اس کے نتیجے میں شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، بیمہ کی شرحیں بڑھ گئی ہیں، اور ترسیل کا وقت بھی طویل ہو گیا ہے۔ یہ عوامل نہ صرف مشرق وسطیٰ کے ممالک کو آم کی برآمدات کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ یورپ اور دیگر مغربی منڈیوں تک پہنچنے والے جہازوں کو بھی طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
آم کی برآمدات میں کمی سے پاکستانی کسانوں اور برآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے، اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ سے بھی محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ حکومت اور برآمدی شعبے کے نمائندے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل منڈیوں کی تلاش اور لاجسٹک چیلنجز کو کم کرنے کی کوششوں پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، جب تک مشرق وسطیٰ میں استحکام بحال نہیں ہوتا، آم کی برآمدات پر اس تنازعے کے منفی اثرات برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔


