سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد ثالثی کرنے والے قطری اور پاکستانی حکام نے پائیدار امن معاہدے کی جانب “حوصلہ افزا پیشرفت” کا دعویٰ کیا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں استحکام لانے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔
تاہم، ان مذاکرات کے دوران لبنان کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان واضح اختلافات سامنے آئے۔ اسی اثنا میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں کو ایک بار پھر دہرایا، جس سے مذاکراتی عمل پر کچھ تناؤ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ لبنان کی صورتحال خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان گہرے اختلافات کی ایک اہم وجہ بنی ہوئی ہے اور اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
ثالثی کرنے والے ممالک نے اگرچہ پیشرفت کو مثبت قرار دیا ہے، لیکن لبنان جیسے حساس معاملات پر موجود کشیدگی اور امریکی صدر کی جانب سے دھمکیوں کی تجدید سے ظاہر ہوتا ہے کہ پائیدار امن کی راہ ابھی بھی کٹھن ہے۔ آئندہ مذاکرات میں ان چیلنجز سے نمٹنا اور دونوں فریقین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا ایک بڑا امتحان ہو گا تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔



