ایبٹ آباد: ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ صائمہ، جسے مبینہ طور پر اس کے سسرالیوں نے جلایا تھا، اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پانچ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر دم توڑ گئی۔ صائمہ کو شدید جھلسی ہوئی حالت میں پانچ روز قبل پمز اسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی تھی۔
اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات کے مطابق، صائمہ کو اس کے سسرال میں مبینہ طور پر گھریلو تنازعے کے بعد آگ لگائی گئی تھی۔ اس کے جسم کا ایک بڑا حصہ جل چکا تھا اور ڈاکٹرز اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، زخموں کی شدت اور انفیکشن کے باعث اس کی حالت بگڑتی چلی گئی اور وہ آج صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
صائمہ کے اہل خانہ نے اس کے سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور پولیس سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور گھریلو مظالم کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، جس پر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔





