وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اسلام آباد میں طے پانے والے کسی بھی مفاہمت نامے کا حصہ نہیں ہے۔ یہ وضاحت انہوں نے 23 جون 2026 کو اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران کی۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والے تمام معاہدے باہمی تعاون، تجارت اور علاقائی استحکام کے فروغ پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہیں، اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔
وزیراعظم نے عالمی سطح پر دوہرے معیار کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کے لیے یکساں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پاسداری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمیوں کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا تھا۔



