امریکی ریاست ٹیکساس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف ہونے والے پرتشدد فسادات کے سلسلے میں آٹھ افراد کو مجموعی طور پر 450 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں فسادات کے دوران ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق، یہ واقعہ ٹیکساس میں اس وقت پیش آیا جب ICE کے دفاتر کے باہر ایک احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ سرکاری وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ اس بدامنی کے دوران ایک پولیس اہلکار کو گردن میں گولی ماری گئی تھی، اور اس حملے میں “اینٹیفا سیل کے کارندے” ملوث تھے۔ اہلکار کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی جان بچائی جا سکی۔
عدالت نے اس معاملے میں ملوث آٹھ افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں سخت سزائیں سنائی ہیں۔ یہ سزائیں پرتشدد احتجاج اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کے خلاف ایک واضح پیغام سمجھی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔


