پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوجوان سماجی کارکن اور ‘ماہواری جسٹس’ کی بانی بشریٰ مہنور نے ماہواری کے انصاف کے فروغ کے لیے اپنی شاندار خدمات کے اعتراف میں باوقار کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ جیت لیا ہے۔ یہ ایوارڈ انہیں لندن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں دیا گیا، جہاں دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو ان کی غیر معمولی کاوشوں پر سراہا گیا۔
بشریٰ مہنور کی تنظیم ‘ماہواری جسٹس’ پاکستان میں ماہواری سے متعلق آگاہی، سستی اور محفوظ مصنوعات تک رسائی، اور اس موضوع سے جڑے سماجی تعصبات کو ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان کی کوششوں نے ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو ماہواری کے دوران درپیش چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ہے، جس سے ان کی صحت اور وقار کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا ہوا ہے۔ ان کے کام نے نہ صرف مقامی سطح پر تبدیلی لائی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ماہواری کے صحت کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔
کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ کا حصول بشریٰ مہنور اور ‘ماہواری جسٹس’ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو نہ صرف ان کی محنت کا اعتراف ہے بلکہ ماہواری کے انصاف کے عالمی ایجنڈے کو بھی تقویت دیتا ہے۔ یہ ایوارڈ دیگر نوجوانوں کو بھی متاثر کرے گا کہ وہ اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے آگے آئیں۔ بشریٰ مہنور کا یہ اعزاز پاکستان کے لیے بھی باعث فخر ہے اور عالمی سطح پر نوجوانوں کی قیادت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
